000 02389nam a22001937a 4500
005 20260514130416.0
008 260514b |||||||| |||| 00| 0 eng d
020 _a(hbk)
040 _cUE-CL
082 _a297
_bQ11
100 _aجلالوی، استاد سید محمد حسین قمر
245 _aاوجِ قمر
_c/استاد سید محمد حسین قمر جلالوی
260 _aکراچی:
_bشیخ شوکت علی اینڈ سنز,
_c1952
300 _a172 p.
505 _a ترتیب کلام حرف اول سن سن کے مجھ سے وصف تیرے اختیار کا (حمد) ا سوز غم فراق سے دل کو بچائے کون تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دکھی (نعت) ۱۳ ہے سخاوت میں بس اتنا مجھے اندازہ گل غلط ہے شیخ کی صد ساقی محفل سے ٹوٹے گی گر پڑی ہے جب سے بجلی دشت الیمین کے قریب بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا ... حرم کی راہ کو نقصان ثبت خانے سے کیا ہو گا آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی قفس میں محو زاری کا ہے کو شام و سحر ہوتے نہ رو کی برق تو آشیاں بدلے چمن بدلے۔ ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا ن فیصلہ کرتا تو آزاد قصہ تیغ د گلو برسوں گو دور جام بزم میں تا ختم شب رہا دونوں ہیں اُن کے ہجر کا حاصل لئے ہوئے خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے نزع کی اور بھی تکلیف بڑھادی تم نے آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو اپنی زلفیں کیوں سر بالیں پریشان کر چلے ایک جا رہنا نہیں لکھا مری تقدیر میں انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں بے خودی میں اُن کے وعدے معتبر سمجھا نہیں جواں ہو کہ زباں تیری ثبت بے پیر بگڑی ہے شن کے نام عشق برہم وہ بہت خود کام ہے
546 _aاردو
650 _aاوجِ-- قمر
942 _cBK
999 _c26530
_d26529