Welcome to UE Central Library

Keep Smiling

اوجِ قمر /استاد سید محمد حسین قمر جلالوی

By: Material type: TextPublication details: کراچی: شیخ شوکت علی اینڈ سنز, 1952Description: 172 pISBN:
  • (hbk)
Subject(s): DDC classification:
  • 297 Q11
Contents:
ترتیب کلام حرف اول سن سن کے مجھ سے وصف تیرے اختیار کا (حمد) ا سوز غم فراق سے دل کو بچائے کون تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دکھی (نعت) ۱۳ ہے سخاوت میں بس اتنا مجھے اندازہ گل غلط ہے شیخ کی صد ساقی محفل سے ٹوٹے گی گر پڑی ہے جب سے بجلی دشت الیمین کے قریب بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا ... حرم کی راہ کو نقصان ثبت خانے سے کیا ہو گا آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی قفس میں محو زاری کا ہے کو شام و سحر ہوتے نہ رو کی برق تو آشیاں بدلے چمن بدلے۔ ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا ن فیصلہ کرتا تو آزاد قصہ تیغ د گلو برسوں گو دور جام بزم میں تا ختم شب رہا دونوں ہیں اُن کے ہجر کا حاصل لئے ہوئے خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے نزع کی اور بھی تکلیف بڑھادی تم نے آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو اپنی زلفیں کیوں سر بالیں پریشان کر چلے ایک جا رہنا نہیں لکھا مری تقدیر میں انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں بے خودی میں اُن کے وعدے معتبر سمجھا نہیں جواں ہو کہ زباں تیری ثبت بے پیر بگڑی ہے شن کے نام عشق برہم وہ بہت خود کام ہے
Tags from this library: No tags from this library for this title. Log in to add tags.
Star ratings
    Average rating: 0.0 (0 votes)
Holdings
Item type Current library Call number Status Barcode
Books UE-Central Library 297 Q11 (Browse shelf(Opens below)) Not For Loan T5729D


ترتیب کلام

حرف اول

سن سن کے مجھ سے وصف تیرے اختیار کا (حمد)

ا سوز غم فراق سے دل کو بچائے کون

تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اصلا دکھی (نعت)

۱۳ ہے سخاوت میں بس اتنا مجھے اندازہ گل

غلط ہے شیخ کی صد ساقی محفل سے ٹوٹے گی

گر پڑی ہے جب سے بجلی دشت الیمین کے قریب

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا ...

حرم کی راہ کو نقصان ثبت خانے سے کیا ہو گا

آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی

قفس میں محو زاری کا ہے کو شام و سحر ہوتے

نہ رو کی برق تو آشیاں بدلے چمن بدلے۔

ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا


ن فیصلہ کرتا تو آزاد قصہ تیغ د گلو برسوں

گو دور جام بزم میں تا ختم شب رہا


دونوں ہیں اُن کے ہجر کا حاصل لئے ہوئے

خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے

عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے

نزع کی اور بھی تکلیف بڑھادی تم نے

آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو

اپنی زلفیں کیوں سر بالیں پریشان کر چلے

ایک جا رہنا نہیں لکھا مری تقدیر میں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

بے خودی میں اُن کے وعدے معتبر سمجھا نہیں

جواں ہو کہ زباں تیری ثبت بے پیر بگڑی ہے

شن کے نام عشق برہم وہ بہت خود کام ہے

اردو

There are no comments on this title.

to post a comment.
Copyright © 2023, University of Education, Lahore. All Rights Reserved.
Email:centrallibrary@ue.edu.pk